اس خبر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کے شعبے میں پابندیوں کے بجائے باقاعدہ ریگولیشن اور نگرانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چیئرمین پیوارا بلال بن ثاقب کے مطابق پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کے حوالے سے پابندی سے ریگولیٹڈ نگرانی کی جانب منتقلی کی ہے۔ ان کے مطابق 2018 کی پابندیوں سے ورچوئل اثاثوں کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں بلکہ بڑی حد تک آف شور پلیٹ فارمز اور پیئر ٹو پیئر چینلز کی طرف منتقل ہوگئیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مؤثر ریگولیشن سے ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ خبر کے مطابق ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت پیوارا کو پاکستان کا ریگولیٹری ادارہ قائم کیا گیا ہے اور اس نے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے لائسنسنگ نظام شروع کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سرکلر کے مطابق لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے لیے بینک اکاؤنٹس کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ پاکستان ٹوکنائزیشن کے ذریعے سرکاری سکیورٹیز کو ڈیجیٹل شکل دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ سادہ الفاظ میں: خبر کے مطابق پاکستان کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں کو مکمل طور پر روکنے کے بجائے انہیں ایک قانونی، لائسنس یافتہ اور نگرانی کے تحت آنے والے مالیاتی شعبے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کوٹلی میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کو گرفتار…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر…
پاکستان کے شوٹر جی ایم بشیر نے ایشین گیمز 2026 کے شوٹنگ مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے…
واٹس ایپ نے کم عمر صارفین کے تحفظ اور انہیں عمر کے مطابق محفوظ تجربہ فراہم کرنے کے لیے…
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے تمام معاشی اشاریے…