مشرق وسطیٰ کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال میں امریکہ اور چین کی قیادت کے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی ایران پر کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اسرائیلی حملے سست نہیں ہوں گے” اور اگلے دو دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا اور کہا کہ اگر تہران نے امریکی مفادات کو نشانہ بنایا تو سخت ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنا ان کا ہدف ہے۔ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر ایران مذاکرات کی طرف آنا چاہے تو وہ امریکی نمائندوں وٹکوف یا جے ڈی وینس کو بات چیت کے لیے بھیج سکتے ہیں، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ "ابھی تک کسی نے سست روی نہیں دکھائی۔”
دوسری جانب چین نے ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات "جلتی پر تیل ڈالنے” کے مترادف ہیں اور انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر مزید حملوں سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے سفارتی راستہ ہی واحد حل ہے اور بیجنگ کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوغلی امن پالیسی عمر فاروق سٹوڈنٹ آف لا کونٹری یونیورسٹی لندن پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا…
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے متفقہ طور پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو انسدادِ دہشتگردی ایکٹ…
اسلام آباد پولیس کے سینئر افسر ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے دارالحکومت کی…
فرانسیسی پولیس نے منگل کے روز اُن چوروں کی تلاش تیز کر دی جنہوں نے لوور میوزیم سے قیمتی شاہی…
اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے…