فلائی دبئی کی پرواز میں پائلٹس کے درمیان جھگڑا، طیارے کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے ایک پائلٹ نے دورانِ پرواز دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور بظاہر طیارے کو مسافروں سمیت تباہ کرنے کی کوشش کی۔
بدھ کے روز دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ طیارے میں تقریباً 150 مسافر سوار تھے، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔
طیارے میں موجود مسافروں کے مطابق دورانِ پرواز کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوا، جس کے دوران ایک پائلٹ نے دوسرے پر چاقو سے حملہ کیا۔
نیتن یاہو نے واقعے سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ حملہ کرنے والے پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق طیارہ اسرائیل کے قریب پہنچا تو ایک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا اور بظاہر مسافروں سمیت طیارے کو گرانے کی کوشش کی۔ نیتن یاہو نے ایک اسرائیلی مسافر سے ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ طیارہ چکر کھانے کے ساتھ نیچے اترنے لگا، جس کے بعد مسافر کسی طرح عملے کے ایک رکن کے ساتھ کاک پٹ میں داخل ہوا اور دونوں نے مل کر حملہ آور پائلٹ پر قابو پایا۔
نیتن یاہو کے مطابق حملہ آور پائلٹ طیارے کے نظام کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم عملے کے ایک اور رکن نے کاک پٹ میں پہنچ کر طیارے کو مستحکم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے واقعے میں کردار ادا کرنے والے مسافروں اور عملے کے ارکان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد نے غیر معمولی حاضر دماغی اور بہادری کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد جانیں بچ گئیں اور ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔













