لاہور: پولیس پر ٹارگٹڈ حملے کی تحقیقات جاری، 2 اہلکار حراست میں
لاہور پولیس پر ٹارگٹڈ حملے کی تحقیقات کے دوران دہشتگردوں سے رابطوں کے شبہے میں 2 پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق اے ایس آئی جمشید اور تھانہ لوٹرمال میں تعینات کانسٹیبل غلام فرید کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ایس آئی جمشید اور مبینہ دہشتگرد ریحان بٹ کی سوشل میڈیا پر ایک ساتھ تصاویر بھی موجود ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں اہلکاروں کے حملے میں ملوث دہشتگرد سے رابطے تھے، جنہیں ابتدائی تحقیقات کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔ دونوں سے مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب بادامی باغ اور نواں کوٹ میں 3 پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے ملزمان کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی ہے، جس میں تینوں ملزمان کو اسلحہ لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کی شناخت ریحان بٹ، فیاض بٹ اور ایک نامعلوم دہشتگرد کے طور پر ہوئی ہے۔
ادھر پولیس نے 3 اہلکاروں کی شہادت میں ملوث تیسرے ملزم کی بھی شناخت کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق 32 سالہ طارق کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے اور اس کے خلاف تھانہ راوی روڈ میں دفعہ 13/20/65 کے تحت مقدمہ درج ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق کا ڈیٹا ہوٹل آئی سے حاصل کیا گیا، جبکہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے ریحان بٹ کے گھر میں رہائش پذیر تھا۔ طارق کے ریحان بٹ سے رابطے اور ملاقاتیں بھی ثابت ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ریحان بٹ اور اس کا والد فیاض بٹ پولیس مقابلے میں شیخوپورہ میں مارے گئے، جبکہ طارق راوی نالے کے قریب دونوں سے الگ ہوگیا تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طارق کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔













