جب سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی امیدوار ہی نہ مانا گیا تو پھر کیا ہوا؟ جسٹس جمال مندوخیل

اسلام آباد (ایم وائے کے نیوز ٹی وی) – سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق اہم آئینی کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے معزز جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ جب انہیں پی ٹی آئی کا امیدوار ہی تسلیم نہیں کیا گیا تو اس کے بعد کیا اقدامات کیے گئے؟ اس پر وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا اور الیکشن کمیشن کے قواعد کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔

 سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، جبکہ بینچ میں جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے۔ کیس کی سماعت کے دوران کنول شوذب کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ 80 سے زائد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی، اور ماضی میں بھی باپ پارٹی کی مثال موجود ہے جس نے بعد از انتخابات مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کروائی تھی۔

اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ باپ پارٹی نے صرف خیبر پختونخوا میں انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا، جبکہ دیگر علاقوں میں اس کے سینیٹرز اور ایم این ایز موجود تھے۔ جسٹس امین الدین نے سوال اٹھایا کہ اگر آپ کے مؤقف کے مطابق سنی اتحاد کونسل کو پارٹی تسلیم کیا گیا تو اس کے مطابق مخصوص نشستیں کیوں نہ دی گئیں؟ دلائل کے دوران سلمان اکرم راجہ نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر صورتحال واضح نہیں تھی اور الیکشن کمیشن کی سابقہ مثال کو دیکھتے ہوئے ہی مخصوص نشستوں کی فہرست بعد میں جمع کروائی گئی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انہیں جماعت کا امیدوار ہی نہیں مان رہا تھا، جس پر انہیں عدالت کا رخ کرنا پڑا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی امیدوار کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس پر قانونی چارہ جوئی کرتے، لیکن انہوں نے بروقت اپیل دائر نہیں کی۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق کی درستگی نہایت ضروری ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے مسائل نہ پیدا ہوں۔اس موقع پر جسٹس امین الدین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر چھ ارکان کو پی ٹی آئی تسلیم کیا گیا تو باقی امیدواروں نے اس جماعت کو کیوں جوائن نہیں کیا؟ کیا ان چھ افراد نے مخصوص نشستوں کے لیے اپنی تعداد کی بنیاد پر درخواست دی؟ ان تمام نکات پر آئندہ سماعت میں مزید بحث متوقع ہے۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کرتے ہوئے وکلا سے مزید دستاویزی شواہد اور آئینی نکات پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔ آئینی و انتخابی سیاست کی پیچیدگیاں اس مقدمے کو مستقبل کے لیے نہایت اہم اور مثال بناتی جا رہی ہیں۔

web

Recent Posts

پمز اسپتال نے میٹرنٹی کے نئےکیسز لینے سے انکارکردیا

اسلام آباد: پمز اسپتال کا میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار اسلام آباد کے پمز اسپتال کی انتظامیہ نے…

2 دن ago

اداکارہ اشنا شاہ کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش

پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ کے ہاں بیٹے کی پیدائش پاکستانی اداکارہ اشنا شاہ کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی…

2 دن ago

بچوں کے معاملے پر کسی پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں کسی کے پاس بھی اکیلا نہ چھوڑیں: رابعہ انعم

رابعہ انعم کی والدین سے بچوں کی حفاظت کے لیے زیادہ محتاط رہنے کی اپیل پاکستان کی معروف اینکر اور…

2 دن ago

مجھے کینسر کی تشخیص ہوئی، صحتیاب ہونے میں سورۃ الرحمٰن نے بہت مدد کی: نعمان اعجاز

پاکستانی اداکار نعمان اعجاز کا کینسر کی تشخیص اور صحتیابی سے متعلق اہم انکشاف پاکستان کے سینئر اداکار نعمان اعجاز…

2 دن ago

ویڈیو: مریم نفیس خواتین، بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات پر رو پڑیں

پاکستانی اداکارہ مریم نفیس خواتین اور کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر آبدیدہ پاکستانی اداکارہ مریم نفیس…

2 دن ago

بھارتی گلوکار و یوٹیوبر انکت بالیان کو قتل کردیا گیا

بھارت: ہریانوی گلوکار انکت بالیان جم کے باہر فائرنگ سے قتل بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہریانوی گلوکار اور یوٹیوبر…

2 دن ago