یہ راکٹ امریکی کمپنی Firefly Aerospace کے Blue Ghost لینڈر اور جاپانی کمپنی ispace کے Hakuto-R Mission 2 لینڈر کو خلا میں لے کر گیا تھا۔ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد راکٹ کا دوسرا حصہ خلا میں بے قابو حالت میں گردش کرتا رہا۔ ماہرین کے مطابق یہ حصہ تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ (5,400 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چاند کے Einstein Crater کے قریب جا ٹکرایا، جس سے ایک نیا گڑھا (crater) بننے کی توقع ہے۔ چونکہ تصادم چاند کے ایسے حصے پر ہوا جہاں سے براہِ راست مشاہدہ مشکل تھا، اس لیے سائنس دان مدار میں موجود خلائی جہازوں اور دوربینوں سے حاصل ہونے والی تصاویر اور دیگر ڈیٹا کا تجزیہ کر کے تصدیق کریں گے۔ اس واقعے سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن یہ خلائی ملبے (space debris) کے بہتر انتظام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور سائنس دانوں کو چاند کی سطح اور تصادم کے اثرات کا مطالعہ کرنے کا ایک منفرد موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد…
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کو ہونے والے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر 37 صفحات…
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے امتحانات میں خراب نتائج پر اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ…
پشاور: خیبرپختونخوا پولیس کے سینئر افسران نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق تحفظات کا اظہار…
کراچی: جدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے طیارے میں انجن نمبر 2 میں آگ لگنے کی اطلاع پر مسافروں…
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے…