بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا ہے کہ انہیں اچانک اڈیالہ جیل پہنچنے کے لیے فون کیا گیا، جس کے بعد وہ تقریباً رات 8 سے ساڑھے 8 بجے کے درمیان اڈیالہ جیل پہنچیں۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان کے مطابق ڈاکٹر فیصل اور انہیں ڈی ایس پی کے کمرے میں بٹھایا گیا، جہاں تقریباً ساڑھے 12 بجے ایک شخص آیا اور بتایا کہ عمران خان کو لے جایا گیا ہے۔
بہن نورین نیازی اور ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمیٰ خان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت انہیں معلوم نہیں تھا کہ عمران خان کو کہاں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 10، 11 منٹ بعد ایک خاتون اے ایس آئی انہیں اپنے ساتھ لے گئی اور ایک چھوٹی گاڑی میں بٹھا دیا گیا، جبکہ سامنے ایک لینڈ کروزر موجود تھی۔
کسی نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ جب گاڑیاں روانہ ہوئیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا شفا انٹرنیشنل اسپتال جا رہے ہیں، جس پر انہیں جواب ملا کہ نہیں۔ ان کے مطابق کچھ دیر بعد انہیں ایک انتہائی تاریک مقام پر لے جایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ پمز اسپتال ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سوال کیا کہ عدالت اور سپریم کورٹ نے تو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کا فالو اَپ اور چیک اپ ہونا ہے، اسی لیے انہیں پمز لایا گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ کے مطابق عمران خان کو گاڑی سے اتار کر اندر لے جایا گیا، جبکہ انہیں کچھ دیر گاڑی میں بٹھائے رکھا گیا۔ بعد ازاں انہیں پمز کے او پی ڈی لے جایا گیا اور پھر اوپر ایک دفتر میں بٹھایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں جب وہ عمران خان کے پاس پہنچیں تو وہ بھی انہیں دیکھ کر حیران ہوئے۔ عمران خان نے وہاں موجود ڈاکٹروں کو بتایا کہ ڈاکٹر عظمیٰ ان کی بہن ہیں اور وہ دس ماہ بعد ان سے مل رہے ہیں۔













