اس خبر کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نئے صوبوں کے قیام کے اصولی طور پر مخالف نہیں، بلکہ اسے پاکستان کے مفاد، انتظامی بہتری، پارلیمانی بحث اور سیاسی اتفاقِ رائے سے مشروط قرار دے رہے ہیں۔
اہم نکات:
نئے صوبے اگر انتظامی اور قومی مفاد میں ہوں تو بننے چاہئیں۔
اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو بحث میں شامل ہونا چاہیے۔
صوبوں کی تشکیل کسی پر زبردستی مسلط نہیں کی جانی چاہیے۔
فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعے وسیع بحث اور اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کو جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی اور قومی مفاد دیکھنا چاہیے۔
اگر نئے صوبے مزید تقسیم یا انتشار کا باعث بننے کا خدشہ ہو تو اس پہلو پر بھی سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔
انہوں نے بھارت میں ریاستوں کی تشکیلِ نو کی مثال دیتے ہوئے پنجاب سے ہماچل پردیش اور ہریانہ سمیت نئی ریاستوں کے قیام کا حوالہ دیا ہے۔
خلاصہ: طارق فضل چوہدری کا مؤقف دراصل یہ ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ آیا وہ پاکستان کے لیے انتظامی طور پر بہتر اور قومی مفاد میں ہیں، اور کیا ان کے قیام پر وسیع سیاسی و قومی اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کوٹلی میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کو گرفتار…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر…
پاکستان کے شوٹر جی ایم بشیر نے ایشین گیمز 2026 کے شوٹنگ مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے…
واٹس ایپ نے کم عمر صارفین کے تحفظ اور انہیں عمر کے مطابق محفوظ تجربہ فراہم کرنے کے لیے…
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے تمام معاشی اشاریے…