اس خبر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (Strategic Petroleum Reserves) قائم کرنے کے منصوبے پر عملی کام شروع کر دیا ہے۔ حکومت نے اس منصوبے کے لیے فیزیبلٹی اسٹڈی شروع کر دی ہے۔ عالمی توانائی مشاورتی ادارے وُڈ میکنزی (Wood Mackenzie) کو اسٹڈی کی قیادت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ وُڈ میکنزی کا انتخاب مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے کیا گیا، جس میں چار کمپنیوں نے بولیاں جمع کرائی تھیں۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اجلاس میں اسٹڈی کے دائرۂ کار، تکمیل کی مدت اور مجوزہ نظام کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کا تحفظ قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ سادہ الفاظ میں: پاکستان ایسا تیل ذخیرہ کرنے کا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جس سے عالمی منڈی میں سپلائی میں رکاوٹ، قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ یا کسی ہنگامی صورتحال کے دوران ملک کے پاس پٹرولیم کا محفوظ بیک اپ ذخیرہ موجود ہو۔ یہ ابھی منصوبے کا ابتدائی مرحلہ ہے؛ فیزیبلٹی اسٹڈی کے بعد ہی ذخائر کی جگہ، گنجائش، لاگت اور تعمیر کے طریقۂ کار سے متعلق حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…
آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کوٹلی میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کو گرفتار…
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر…
پاکستان کے شوٹر جی ایم بشیر نے ایشین گیمز 2026 کے شوٹنگ مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے…
واٹس ایپ نے کم عمر صارفین کے تحفظ اور انہیں عمر کے مطابق محفوظ تجربہ فراہم کرنے کے لیے…
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کے تمام معاشی اشاریے…