یہ خبر پمز اسپتال میں پیش آنے والے المناک واقعے میں فائر سیفٹی کے مبینہ طور پر انتہائی ناقص انتظامات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق فائر ہوزز میں کپلنگز موجود نہیں تھیں اور فائر پوائنٹس پر پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔ مبینہ طور پر ہنگامی انخلا کے راستوں پر تالے لگے ہوئے تھے، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ لگنے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں ڈاکٹر، وارڈ بوائے یا دیگر عملہ موجود نہیں تھا۔ بتایا گیا ہے کہ آگ صبح تقریباً 6:45 بجے ایئرکنڈیشننگ کمپریسر پھٹنے کے بعد لگی، تاہم حتمی وجہ انکوائری کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ اسپتال حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا جبکہ 15 جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اہم بات: اگر تحقیقات میں فائر سیفٹی کی یہ خامیاں اور عملے کی عدم موجودگی ثابت ہوجاتی ہے تو معاملہ محض حادثے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سنگین انتظامی غفلت اور حفاظتی ذمہ داریوں میں کوتاہی کا سوال بھی اٹھے گا۔
پمز گائنی وارڈ میں آتشزدگی: زندہ بچ جانے والی نومولود کی خالہ کا انتظامیہ کے دعوے سے اختلاف اسلام آباد:…
عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقاتیں ایس او پیز پر عملدرآمد سے مشروط، ذرائع اسلام آباد: باخبر ذرائع کے…
مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے مختلف شہروں میں دھرنے جاری جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگائی…
اسپین نے امیگریشن اور پناہ گزینوں کے قوانین سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا دیگر یورپی ممالک کی طرح اسپین نے…
ملک بھر میں عید میلادالنبی ﷺ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے ملک بھر میں نبی…
ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے پر اتفاق تہران میں ایران اور عمان نے…