گوگل نے اپنی نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کا تعارف کرایا ہے، جو ویب پر براؤزنگ کرنے کے لیے صارف کی طرح کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ٹول، جسے پروجیکٹ مرینر کہا جاتا ہے، پہلے پروجیکٹ جاروس کے طور پر جانا جاتا تھا، اور ویب براؤزنگ کی 34 سالہ تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کا مقصد گوگل کا ایک ایسا اے آئی اسسٹنٹ تیار کرنا ہے جو صارفین کے روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرے۔
پروجیکٹ مرینر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے گوگل کروم ویب براؤزر میں ایک تجرباتی ایکسٹینشن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ٹول گوگل کی جیمنائی اے آئی کو استعمال کرتا ہے تاکہ ویب پر موجود معلومات کو تجزیہ کر کے کام انجام دے سکے۔
یہ ٹول ویب پیجز پر موجود امیجز، ٹیکسٹ اور فارمز کا تجزیہ کرتا ہے، اور خود بخود مطلوبہ جگہ پر ٹائپ یا کلک کر کے مطلوبہ کام مکمل کرتا ہے۔
اس وقت یہ ٹول صرف چند مخصوص ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے، اور گوگل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا موجودہ ورژن انسانوں کے مقابلے میں سست اور مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہے۔
عام طور پر کتوں کو وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ایک مرغے…
لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنزا (فلو) سے بچاؤ کی ویکسین بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی، جبکہ دستیاب ویکسین…
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے طویل ٹرین کس ملک سے تعلق رکھتی ہے؟ جنوبی افریقا…
ایپل نے رواں سال اسٹینڈرڈ آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 متعارف نہیں کرائے، تاہم نئی لیک…
ملتان: 15 سالہ وسیم عباس کی کار سے کچلے جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے خلاف کارروائی ملتان…
کراچی: ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا عمل شروع…