گوگل نے اپنی نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کا تعارف کرایا ہے، جو ویب پر براؤزنگ کرنے کے لیے صارف کی طرح کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ ٹول، جسے پروجیکٹ مرینر کہا جاتا ہے، پہلے پروجیکٹ جاروس کے طور پر جانا جاتا تھا، اور ویب براؤزنگ کی 34 سالہ تاریخ میں ایک اہم تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس اپ ڈیٹ کا مقصد گوگل کا ایک ایسا اے آئی اسسٹنٹ تیار کرنا ہے جو صارفین کے روزمرہ کے کاموں میں مدد فراہم کرے۔
پروجیکٹ مرینر ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے گوگل کروم ویب براؤزر میں ایک تجرباتی ایکسٹینشن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ٹول گوگل کی جیمنائی اے آئی کو استعمال کرتا ہے تاکہ ویب پر موجود معلومات کو تجزیہ کر کے کام انجام دے سکے۔
یہ ٹول ویب پیجز پر موجود امیجز، ٹیکسٹ اور فارمز کا تجزیہ کرتا ہے، اور خود بخود مطلوبہ جگہ پر ٹائپ یا کلک کر کے مطلوبہ کام مکمل کرتا ہے۔
اس وقت یہ ٹول صرف چند مخصوص ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے، اور گوگل نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا موجودہ ورژن انسانوں کے مقابلے میں سست اور مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ جسٹس راحیل کامران شیخ 7 مئی 2021…
مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں طلبہ کیلئے ماہانہ 3 ہزار روپے قسط پر ای بائیک دینے کی تجویز…
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے استعفے سے قبل اپنا آخری فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ سگریٹ، پان اور…
لاہور: این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کے کیس میں (ن)…
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں نے پاک افغان سرحد…
این سی سی آئی اے کے مطابق نئے ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر اداکارہ مومنہ اقبال اور ایم پی اے…