برطانیہ میں ملازمین کی ذہنی دباؤ کو کم کرنے اور انہیں زیادہ آرام کا موقع فراہم کرنے کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، برطانیہ کی 200 بڑی کمپنیوں نے مستقل طور پر ہفتے میں 4 دن کام اور 3 دن چھٹی دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ اقدام "4 ڈے ویک فاؤنڈیشن” کی جانب سے چلائی گئی ملک گیر آگاہی مہم کے بعد کیا گیا، جس کا مقصد ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ان کی زندگی میں توازن پیدا کرنا ہے۔
اس منصوبے کی حمایت کرنے والی 200 کمپنیوں میں 5 ہزار سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں، جو اب ہفتے میں ایک دن کم کام کریں گے لیکن ان کی تنخواہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
4 ڈے ویک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ہفتے میں 5 دن، روزانہ 9 سے 5 بجے تک کام کا نظام ایک صدی پرانا ماڈل ہے، جو اب دورِ حاضر کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ کام کے اوقات میں کمی سے ملازمین زیادہ مطمئن اور پیداواری ثابت ہوتے ہیں، اس لیے اس نظام کو عالمی سطح پر اپنانا چاہیے۔
واضح رہے کہ 2 سال قبل بیلجیئم یورپ کا پہلا ملک بنا تھا جس نے ہفتے میں 4 دن کام کے اصول کو باقاعدہ قانون کا حصہ بنایا تھا۔
کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد…
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کو ہونے والے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر 37 صفحات…
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے امتحانات میں خراب نتائج پر اساتذہ کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعلیٰ…
پشاور: خیبرپختونخوا پولیس کے سینئر افسران نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں اختیارات کی تقسیم سے متعلق تحفظات کا اظہار…
کراچی: جدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے طیارے میں انجن نمبر 2 میں آگ لگنے کی اطلاع پر مسافروں…
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے…