عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق اڈیالہ جیل کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
اسلام آباد: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد سرکاری معالجین بانی پی ٹی آئی عمران خان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی ہر منگل کو جیل رولز کے تحت باقاعدگی سے ملاقات کرائی جاتی ہے، جبکہ اب تک دونوں کی 84 ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔
رپورٹ میں سلمان اکرم راجہ کی جانب سے ہائیکورٹ میں دی گئی یقین دہانی کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ملاقات کے بعد جیل احاطے میں میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم کے باوجود میڈیا ٹاک کی گئی۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا سنگل بینچ شیرافضل کیس میں جیل رولز 265 کو خلافِ قانون قرار دے چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جیل میں ملاقاتوں کے ذریعے عدلیہ، فارن پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جیل کے میڈیکل افسران عمران خان کے کھانے پینے کی دن میں تین مرتبہ جانچ اور طبی معائنہ کرتے ہیں، جبکہ متعدد سرکاری معالجین بھی ان کا چیک اپ کرتے ہیں جس کا ریکارڈ موجود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 تک مختلف طبی ماہرین کی جانب سے عمران خان کے 39 طبی معائنے کیے گئے، جن کی سمری بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماہر امراض چشم سے بھی عمران خان کی آنکھ کا علاج کرایا جاتا رہا ہے اور ان کی ایک آنکھ تقریباً نارمل ہوچکی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں، عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں سے متعلق کیس کی سماعت کرے گا۔













