Categories: صحت

دماغی کینسر کی تشخیص کے لیے انقلابی پیش رفت, خون کا ٹیسٹ متعارف

یہ نئی تحقیق امریکا اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی ایک مشترکہ ٹیم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے

دماغی کینسر کی تشخیص کے لیے انقلابی پیش رفت, خون کا ٹیسٹ متعارف

واشنگٹن: دماغی کینسر کی تشخیص میں ایک نئی اور اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسا خون کا ٹیسٹ متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے دماغی کینسر، خاص طور پر مہلک قسم کی رسولی گلیوبلاسٹوما کا جلد اور مؤثر طریقے سے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس نئے طریقے کو "لیکوئڈ بایپسی” کا نام دیا گیا ہے، جو خون کے نمونے سے بائیو مارکر کی شناخت کے ذریعے کام کرتا ہے۔

عام طور پر دماغی کینسر کی تشخیص کے لیے جراحی بائیوپسی کی جاتی ہے، جس میں سرجری کے ذریعے رسولی کا نمونہ حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، لیکوئڈ بایپسی میں صرف 100 مائیکرو لٹر خون کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ ایک گھنٹے کے اندر اندر نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹیسٹ نہ صرف زیادہ محفوظ اور آسان ہے، بلکہ اسے عام طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جلدی سمجھا جاتا ہے۔

اس ٹیسٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ گلیوبلاسٹوما کے بائیو مارکرز کی تشخیص میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ گلیوبلاسٹوما دماغی کینسر کی ایک انتہائی مہلک قسم ہے، اور اس کی بروقت تشخیص مریض کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ایپیڈرمل گروتھ فیکٹر ریسیپٹرز (EGFRs) کا پتہ لگایا جاتا ہے، جو گلیوبلاسٹوما کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے کینسر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق امریکا اور آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی ایک مشترکہ ٹیم کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اس ٹیم کی قیادت یونیورسٹی آف نوٹر ڈیم کے سائنسدان کر رہے ہیں۔ یہ ٹیسٹ خون کے بائیو مارکر کو سونگھنے کے طریقہ پر مبنی ہے جو کہ دماغی کینسر کی بروقت اور درست تشخیص کو ممکن بناتا ہے۔

خون کے ذریعے کینسر کی تشخیص کا یہ طریقہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے نتائج دیتا ہے اور مریضوں کے لیے سرجری جیسے مشکل اور مہنگے طریقہ کار کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ٹیسٹ دنیا بھر میں دماغی کینسر کے علاج کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جس سے لاکھوں مریضوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

اس تحقیق کی کامیابی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ لیکوئڈ بایپسی کے طریقے کو مزید بہتر اور ترقی دی جائے گی، جس سے دماغی کینسر کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے کینسر کی تشخیص بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے کینسر کی ابتدائی مرحلے میں شناخت ممکن ہوگی، جو علاج کے نتائج کو بہتر بنانے میں مدد دے گی۔

web

Recent Posts

تحریک انصاف کا مجوزہ مارچ، پس پردہ رابطے اعتماد کے فقدان کو دور کرنے میں ناکام

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی…

17 گھنٹے ago

پشاور: بڈھ بیر میں قبریں کھود کر بچوں کی نعشیں نکالنے اور مبینہ بے حرمتی کرنے والا ملزم گرفتار کرلیا گیا۔

  پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں مقامی افراد نے قبر کھود کر بچوں اور بچیوں کی نعشیں نکالنے اور…

17 گھنٹے ago

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی و سرکاری/خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا استثنا معاہدہ طے پا گیا۔

  نیو یارک میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی، جس…

17 گھنٹے ago

پشاور: خاتون کا 13 سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر پھانسی دے کر قتل کرنے کا دعویٰ، پولیس نے گرفتار کرلیا

پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے ٹاؤن میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنی 13 سالہ بیٹی…

17 گھنٹے ago

صوابی: ایف بی آر کے ویئر ہاؤس سے 25 کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ غائب، ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرلیا

صوابی: خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ویئر ہاؤس سے 25 کروڑ…

17 گھنٹے ago