اسلام آباد کے پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 15 نومولود جھلس کر جاں بحق

یہ خبر پمز اسپتال کی نرسری میں پیش آنے والے انتہائی المناک واقعے کی مزید تفصیلات سامنے لاتی ہے، تاہم مختلف حکام اور والدین کے بیانات میں بعض اہم نکات پر تضاد بھی موجود ہے۔ واقعے کی تفصیلات پمز کے ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر نرسری میں صبح تقریباً 6:45 بجے آگ لگی۔ اسپتال حکام کے مطابق اس وقت نرسری میں 16 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ خبر میں 15 بچوں کی ہلاکت کا ذکر ہے، جبکہ وزیراعظم اور وفاقی وزیر صحت کے بیانات میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کا ذکر کیا گیا ہے۔ حتمی تعداد سرکاری تحقیقات سے واضح ہوگی۔ ریسکیو کارروائی میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔ ابتدائی طور پر آگ کی وجہ ایئرکنڈیشننگ کمپریسر کا پھٹنا بتائی گئی، جبکہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بعد میں شارٹ سرکٹ کو وجہ قرار دیا۔ اس لیے آگ لگنے کی حتمی وجہ ابھی تحقیقات کا موضوع ہے۔ والدین کے سنگین الزامات متاثرہ بچوں کے والدین نے اسپتال انتظامیہ پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ: آگ لگنے کے وقت نرسری میں مناسب طبی عملہ موجود نہیں تھا۔ این آئی سی یو کا دروازہ مبینہ طور پر لاک تھا۔ ریسکیو اور پولیس کی آمد میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔ بعض والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ الزامات فی الحال والدین کے دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ یا سرکاری تصدیق تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے ہونی ہے۔ حکومتی ردعمل اور تحقیقات وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر کسی کی غفلت ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی، حتیٰ کہ ان کی اپنی غلطی ثابت ہونے کی صورت میں وہ بھی احتساب سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے۔ ضلعی انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، پولیس، سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز کے افسران شامل ہیں۔ کمیٹی کو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سب سے اہم سوال اس واقعے میں اصل ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تین چیزیں واضح ہونا ضروری ہیں: آگ کی اصل وجہ کیا تھی، فائر سیفٹی اور انخلا کے انتظامات کس حالت میں تھے، اور آگ لگنے کے وقت نرسری میں طبی عملے کی موجودگی اور ریسکیو رسپانس کیا تھا۔ حکومتی بیانات اور والدین کے الزامات میں جو تضادات سامنے آئے ہیں، انہیں تحقیقاتی کمیٹی کے لیے خاص طور پر جانچنا ضروری ہوگا۔

web

Recent Posts

لاہور میں آوارہ کتے کا میو اسپتال کے ڈاکٹر پر حملہ، ٹانگ پر 2 زخم

  لاہور کے اقبال ٹاؤن میں آوارہ کتے نے حملہ کرکے میو اسپتال کے ڈاکٹر نعمان کو زخمی کردیا۔ ترجمان…

4 دن ago

آزاد کشمیر پولیس کا کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کی گرفتاری کا دعویٰ

  آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کوٹلی میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 8 مسلح کارندوں کو گرفتار…

4 دن ago

سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر نہیں کیا جا سکتا، صدر مملکت

  صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر…

4 دن ago

ایشین گیمز 2026: شوٹر جی ایم بشیر نے پاکستان کے لیے ایک اور کانسی کا تمغہ جیت لیا

  پاکستان کے شوٹر جی ایم بشیر نے ایشین گیمز 2026 کے شوٹنگ مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے…

1 ہفتہ ago

واٹس ایپ نے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے نئے حفاظتی فیچرز متعارف کرا دیے

  واٹس ایپ نے کم عمر صارفین کے تحفظ اور انہیں عمر کے مطابق محفوظ تجربہ فراہم کرنے کے لیے…

1 ہفتہ ago