سکرین شاٹ
لندن:آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) نے موجودہ دور میں ہماری زندگی کو بلاشبہ آسانی سے بھر دیا ہے، لیکن مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے کس طرح کی صورتحال پیدا کرے گی، اس حوالے سے نوبل انعام یافتہ پروفیسر جیفری ہنٹن نے ایک خوفناک پیشگوئی کی ہے۔
رواں سال طبیعیات کے نوبل انعام سے نوازے جانے والے پروفیسر جیفری ہنٹن نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اگلی تین دہائیوں میں 10 سے 20 فیصد امکانات کے ساتھ انسانی معدومیت کا سبب بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ پروفیسر جیفری ہنٹن نے گزشتہ سال گوگل سے اپنی ملازمت ترک کر دی تھی کیونکہ انہیں یہ خدشہ تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال انسانوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
پروفیسر ہنٹن کے مطابق ابھی تک تاریخ میں انسانوں کو خود سے زیادہ ذہین آلات کا سامنا کم ہی کرنا پڑا ہے۔ ان کے نزدیک یہ مقابلہ صرف ایک ماں اور بچے کے تعلق سے ملتا جلتا ہے، جہاں بچہ اپنی ذہانت سے ماں کو کنٹرول کرتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق، اگر اسی طرز پر اے آئی ٹیکنالوجی کو دیکھا جائے تو یہ بالکل ایک تین سال کے بچے کی طرح ہے، جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار انتہائی تیز ہے اور اگلے 20 سالوں میں یہ ممکن ہے کہ ہم انسانوں سے زیادہ ذہین سسٹمز تیار کر لیں۔ ان کا ماننا تھا کہ چونکہ یہ ترقی بے انتہاء تیز ہے، اس لیے اسے مناسب طریقے سے مانیٹر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔
عام طور پر کتوں کو وفاداری کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جنوبی امریکی ملک بولیویا میں ایک مرغے…
لاہور میں انسولین کے بعد انفلوئنزا (فلو) سے بچاؤ کی ویکسین بھی مارکیٹ سے غائب ہوگئی، جبکہ دستیاب ویکسین…
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے طویل ٹرین کس ملک سے تعلق رکھتی ہے؟ جنوبی افریقا…
ایپل نے رواں سال اسٹینڈرڈ آئی فون 18 اور آئی فون ایئر 2 متعارف نہیں کرائے، تاہم نئی لیک…
ملتان: 15 سالہ وسیم عباس کی کار سے کچلے جانے کے بعد غیر رجسٹرڈ یتیم خانے کے خلاف کارروائی ملتان…
کراچی: ایچ آئی وی سے متاثرہ 157 بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے امداد دینے کا عمل شروع…